روہنگیا کے مظلوم پناہ گزینوں کے علاوہ پاکستان سے لوٹے بے گھر انسانوں کے ساتھ انسانی سلوک کی گزارش،سکھوں کی ہمدردی پر اظہار تشکر
ناگپور،16؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ہمارے ملک کی ہزاروں سال کی تاریخ اور اس کی ثقافتی روایتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ ملک ہمیشہ سے ہی اپنی قومی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور انسان دوستی کے لئے مثال رہا ہے۔ یہاں کی مٹی میں قومی یکجہتی بستی ہے۔ مظلوموں کی مدد اور دکھ درد کے ماروں کو تسکین فراہم کرنا اس ملک کے صوفی سنتوں کی روایت رہی ہے۔ آج کی ناکام سیاستیں ان ہزاروں برس پرانی رواتوں پر اعتماد نہ کر کے اس کی اہمیت اور اس سے جڑی ملک کی روایتوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کل یہاں سنی سنٹر ناگپور میں منعقد ایک میٹنگ میں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ (یوتھ)کے قومی صدر سید عالمگیر اشرف نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی ناکامی کی چادر مظلوموں کی ہمدردی سے روک رہی ہے۔ایک تو روہنگیا میں ویسے بھی انسانیت مخالف مظالم پر اکثر ممالک کی خاموشی ایک انسانیت مخالف فکر کو ہوا دینے میں لگے ہیں اس مزید انہیں اس لئے پناہ نہ دینا کہ ان سے ملک کی داخلی حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے جسیے بیانات شرم ناک اور افسوس ناک ہیں۔ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی امکانا ت سے نمٹنے کے انتظامات کریں اور اس کے ساتھ ہی ملک کی قدیم روایت کو برقرار رکھیں۔ضرورت مندوں اور مظلوموں کو مذہب اور ذات برادری میں بانٹ کر اپنی ناکامی چھپانے کی مذموم حرکت ملک کی ترقی کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک سے وفاداری کی ڈگری بانٹنے والے صرف ٹی وی چینلوں اور اخباروں میں سیاست کا کاروبار کرتے ہیں۔ ورنہ پاکستان سے آئے سیکڑوں پناہ گزینوں کی زندگیاں ابھی بھی مظلومیت کا شکار نہیں ہوتیں۔حضرت سید عالمگیر اشرف نے ان سکھ بھائیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مظلوموں کی مدد کر کے اس دور میں بھی انسانیت کی لاج رکھ لی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کا انسانی فریضہ ہے کہ بغیر مذہب و ملت اور ذات برادی کے تعصب کے ان بے گھر وں کی مدد کی جائے۔نشست کے اختتام پر حضرت سید عالمگیر اشرف نے سبھی انسان دوست ہمدردوں سے گذارش کی کہ اس کس مپرسی کے دور میں مظلوموں پر کسی قسم کے بے بنیاد الزام تراشی کی بجائے ان کو انسانی حقوق فراہم کرنے کے لئے جد وجہد کی جائے۔ عالمی برادری کو بھی انسانی حقوق کی حفاظت کے تئیں کوشش کی جائے۔